آخری دستک – عشرت زاہد
وہ کراچی کا ایک گنجان آباد علاقہ تھا۔ چھوٹی چھوٹی گلیوں پر مشتمل درمیانے طبقے کی آبادی تھی۔ انہیں میں سے ایک گھرانہ فوزیہ کا
وہ کراچی کا ایک گنجان آباد علاقہ تھا۔ چھوٹی چھوٹی گلیوں پر مشتمل درمیانے طبقے کی آبادی تھی۔ انہیں میں سے ایک گھرانہ فوزیہ کا
نقاہت زدہ وجود میں تھوڑی سی حرارت وقوت محسوس ہونے پر اس نے اٹھنے کی کوشش کی۔ ’’ممی ابھی لیٹی رہیں‘‘، لائبہ نے گرم سوپ
جب اس کی آنکھ کھلی تو ہر طرف اندھیرا تھا۔اس نے بے ہوشی سے پہلے کا منظر یاد کرنے کی کوشش کی۔اچانک ہلکی ہلکی تلاوت
وہ پراٹھے بناتے تھے ، گول گول لچھے دار پراٹھے ، ان کی خوشبو ہی دور سے اپنی جانب کھینچ لیتی۔ وہ اپنے کام میں
جیل آفیسر کی زبانی جیل آفیسر شمیم چیمہ نے کہانی شروع کی ۔ ضلع چکوال کے نواح میں گھومتی ، پہاڑیوںکے درمیان واقع گھنے جنگل
گھر میں عجیب سی بے چینی پھیلی ہوئی تھی سب اپنی اپنی جگہ پریشان اور سوچوںمیں گُم تھے ، ’’ بھلا ڈاکٹر نے یہ کیوںکہا
پچھے چھ ماہ میں میں نے خود انحصاری کا نیا مفہوم جانا ۔ اس کے فائدوں سے میں نے لطف اٹھایا۔ ہمیشہ یونہی ہوتا رہا
نام کتاب:قیادت کا سفر مرتّبہ:روبینہ فرید صفحات :216، قیمت:۱۰۰۰روپے شائع کردہ:تدوینِ تاریخ کمیٹی،حلقہ خواتین،جماعت اسلامی پاکستان ملنے کا پتہ:الفلاح مرکز کراچی،مرکز خواتین منصورہ لاہور دورِ
ادارہ بتول کے تحت شائع ہونے والی تمام تحریریں طبع زاد اور اورجنل ہوتی ہیں۔ ان کو کہیں بھی دوبارہ شائع یا شیئر کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ ساتھ کتاب اور پبلشر/ رسالے کے متعلقہ شمارے اور لکھنے والے کے نام کا حوالہ واضح طور پر موجود ہو۔ حوالے کے بغیر یا کسی اور نام سے نقل کرنے کی صورت میں ادارے کو قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہو گا۔
ادارہ بتول (ٹرسٹ) کے اغراض و مقاصد کتابوں ، کتابچوں اور رسالوں کی شکل میں تعلیمی و ادبی مواد کی طباعت، تدوین اور اشاعت ہیں تاکہ معاشرے میں علم کے ذریعےامن و سلامتی ، بامقصد زندگی کے شعوراورمثبت اقدار کا فروغ ہو
Designed and Developed by Pixelpk