This Content Is Only For Subscribers
غزل
مسئلہ کوئی بھی ہو حل بڑے آرام سے ہو
کام ہر فرد کو اپنے ہی اگر کام سے ہو
تذکرہ تیری جفاؤں کا بھی لازم ٹھہرا
غم کے ماروں کو دلاسہ مرے انجام سے ہو
عقل ہر درد کا احساس کہاں کرتی ہے
روح انجان اگر اپنے ہی اندام سے ہو
ضبط ایسا ہے کہ ہر صبح فراموش کروں
حوصلہ یہ ہے کہ ہر شام ترے نام سے ہو
بات کرتے ہیں بہت سوچ سمجھ کر جیسے
رابطہ اُن کے خیالات کا الہام سے ہو
(اسامہ ضیاء بسمل)
غزل
ہو وقت کڑا ڈھال بھی تلوار بھی ہم ہیں
ٹل جائے تو دہشت گر و غدار بھی ہم ہیں
جب دیس پکارے تو ہتھیلی پہ رکھیں سر
اور لائقِ تعزیر و سزاوار بھی ہم ہیں
موقع ہو تو چھوڑیں کوئی مردار نہ زندہ
کہنے کو بڑے صاحبِ کردار بھی ہم ہیں
ہے جس میں مہک آج بھی پُرکھوں کے لہو کی
اس گھر کے شکستہ در و دیوار بھی ہم ہیں
یاروں کیلئے ریشم و کمخاب ہیں لیکن
دشمن کیلئے حیدرِ کرار بھی ہم ہیں
اے آسماں اب تیری ضرورت ہی رہی کیا
اپنے ہی اگر در پئے آزار بھی ہم ہیں
اب عشق مفادات کا تابع ہوا یعنی
اقرار بھی ہم ہیں کبھی انکار بھی ہم ہیں
ہے سلطنت کون و مکاں اپنی اسی کے
ہم تخت بھی ہم تاج بھی دربار بھی ہم ہیں
جرأت ہے کسی میں کوئی پوچھے کہ وطن کا
آئین بھی قانون بھی سرکار بھی ہم ہیں
شرمائیں نہ گھبرائیں حبیبؔ آئیں کہ ہم ہی
فرسودہ روایات بھی سنسار بھی ہم ہیں
(حبیب الرحمن)
غزل
رت جگے لے لو نئ صبح کا تارا دے دو
دھوپ دیکھی ہے بہت پیڑ کا سایا دے دو
کوئی تعویذ ، وظیفہ ، کوئی دھاگا دےدو
ہجر کے مارے کو تھوڑا سا دلاسا دے دو
چشم یعقوب کی بینائی پلٹ آئے گی
یوسف وقت اتارا ہؤا کُرتا دے دو
ہجرتیں اور مقدر میں نہ لکھنا یارب
پاؤں زخمی ہوئے جاتے ہیں ٹھکانا دے دو
شاخِ زیتون سنبھالے ہوئے جاتی ہے کہاں
کھڑکیاں کھول دو چڑیا کو تو رستا دے دو
اذن دے دو کہ نئ سمتِ مسافت دیکھیں
کوچہِ دل سے نکل جائیں اشارہ دے دو
(عزیزہ انجم)



بہت اچھا لگا بتول آن لائن پڑھنے کو مل گیا