This Content Is Only For Subscribers
یہ کیا کہ سچی رفاقتوں کی گھنیری چھاؤں کو ڈھونڈتے ہو
ہرے بھرے کھیت بستیوں میں بدل کے گاؤں کو ڈھونڈتے ہو
اندھیرے گھر میں گری ہوئی سوئی ڈھونڈنا جب نہیں ہے ممکن
تو کیوں یہ پھیلائی جھوٹی باتوں کے ہاتھ پاؤں کو ڈھونڈتے ہو
کسی کے آنچل نہیں ہیں محفوظ گر سروں پر تمہارے ہاتھوں
تو کس بنا پر تم اپنے گھر کے لیے رداؤں کو ڈھونڈتے ہو
یہ نیک لوگوں کی بستیاں ہیں یہاں بنے گا مذاق ہر سو
تمہای سادہ دلی کا یارو جو ہمنواؤں کو ڈھونڈتے ہو
بتاؤ کیا اس زمیں کے تم پر تمام در بند ہو چکے ہیں
تلاش کرنے نئے ٹھکانے جو تم خلاؤں کو ڈھونڈتے ہو
نہ کوئی کنکر نہ اینٹ پتھر کسی نے مارا نہ روکا ٹوکا
تو اجنبی شہر میں بھلا تم کن آشناؤں کو ڈھونڈتے ہو
بہت پکارا تڑپ تڑپ کر پلٹ کے دیکھا نہیں تھا اب کیوں
زمین گنبد نہیں ہے جو تم مری صداؤں کو ڈھونڈتے ہو
نہیں تھا یاں آشنا ہی کوئی تو چاہیے کس کی راکھ، جو یوں
تڑپ کے مرگھٹ میں ہر طرف تم جلی چتاؤں کو ڈھونڈتے ہو
کرو بھی احسان اور احسان کرکے ہر دم جتاتے رہنا
ہے ایسا جیسے جزاؤں میں تم کڑی سزاؤں کو ڈھونڈتے ہو
وہ جھوٹے وعدے، وہ بے وفائی، وہ فرقتوں کی سیاہ راتیں
عجیب ہو تم جو ٹل چکی ہیں انھیں بلاؤں کو ڈھونڈتے ہو
ہوا ہوئیں سب ہوائیں بچپن کی، اور ہو ہو کے پاگلوں سا
حبیبؔ تم کن ہواؤں میں ہو جو اُن ہواؤں کو ڈھونڈتے ہو


