This Content Is Only For Subscribers
سوشل میڈیا سے
لوگ سچ کہتے ہیں
عورتیں بہت عجیب ہوتی ہیں
رات بھر پورا سوتی نہیں
تھوڑا تھوڑا جاگتی رہتی ہیں
نیند کی سیاہی میں
انگلی ڈبو کر
دن کا حساب لکھتی ہیں
ٹٹولتی رہتی ہیں
دروازوں کی کنڈیاں
بچوں کی چادر ،شوہر کا من
اور جب جاگتی ہیں
تو پورا نہیں جاگتیں
نیند میں ہی بھاگتی ہیں
سچ میں عورتیں بہت عجیب ہوتی ہیں
ہوا کی طرح گھومتی
کبھی گھر کبھی باہر
ٹفن میں روز رکھتی نئی نظمیں
گملوں میں روز بوتی امیدیں
پرانےعجیب سے گانے
گنگناتی چل دیتی ہیں
پھر نئے دِن کا مقابلہ کرنے
سب سے دور ہو کر بھی
سب کے قریب ہوتی ہیں
عورتیں سچ میں بہت عجیب ہوتی ہیں
کبھی کوئی خواب پورا نہیں دیکھتیں
بیچ میں ہی چھوڑ کر دیکھنے لگتی ہیں
چولہے پر چڑھا دودھ
کبھی کوئی کام پورا نہیں کرتیں
بیچ میں چھوڑ کرڈھونڈنے لگتی ہیں
موزے ،بچوں کی پینسل ،ربڑ ،جوتے
اپنے بچپن کی یادیں
سہیلیوں کی باتیں
بہنوںسے لڑائی اور ان کا ماننا
اور کچھ نہیں تو بس
ماں کو یاد کر کے رو دینا
ابّا کی گڑیاں لانی یاد آجاتیں
اور پرانے صندوق سے کچھ ادھوری یادیں ڈھونڈنا
کچھ ان کہی لفظوں کی کہانی
کھویا ہوا ورق ڈھونڈنا
برسات کو یاد کرنا
جب ہو جائے تو
بھاگتے رہنا کپڑے بھیگ نا جائیں
اچار ،پاپڑ خراب نا ہو جائیں
سچ میں عورتیں بہت عجیب ہوتی ہیں
خوشی کی امید پر
پوری زندگی بتا دیتی ہیں
ان گنت کھائیوں کے
پُل کو پاٹ دیتی ہیں
سچ میں عورتیں عجیب ہوتی ہیں!


