This Content Is Only For Subscribers
سنہرے گنبد سے اپنارشتہ تو اس قدر ہے
خدا نے رکھی جہاں پہ برکت یہی وہ در ہے
گئے تھے آقا فلک کی جانب
یہی تو وہ جائے معتبر ہے
ہزار نبیوں کو جس نے پالا یہی وہ گھر ہے
حصارِ جوروجفا جہاں اب سواہوا ہے
بہت ہی ملعون وحشیوں میں گھرا ہوا ہے
زمینِ اقدس کی اس تباہی کاعکس دیکھوگےہرخبرمیں
جو مثلِ خنجر ہوئی ہیں پیوست ہرنظرمیں
ندائے اقصی میں سن سکو تو
لہو نہاتی ہزار آھیں جو مرتعش ہیں
تجلیوں سے جولاالہَ کی منعکس ہیں
جو زخمی کلیوں کی آہ و زاری میں ملتمس ہیں
نبی کی حرمت کے نام لیوا ادہر تو آؤ
کسی اخوت کے نام لیوا بکھر نہ جاؤ
تمہیں یہاں کے سوال چہرے پکارتے ہیں
زمینِ اقدس پہ بڑھتے حملے پکارتے ہیں
سپاہیانِ وفا کے لشکر کے مرد آہن چلے بھی آؤ
حروفِ قرآں کاتھامے دامن چلے بھی آؤ
قلوبِ ایماں کی بن کے دھڑکن چلے بھی آؤ
زمینِ اقصی تمھارے پرچم کی سبز رنگت سے کہہ رہی ہے
یہاں کی حرمت سے جس کا رشتہ تو دائمی ہے
اگر نہ آؤ تو پھر بتاؤ یہ لازمی ہے
تمھاری نسبت کا مان کیا بس ستائشی ہے؟
تمھاری طاقت کا زعم کیا بس نمائشی ہے؟


