ویہڑا – ثانیہ رحمن – ترجمہ:ام معبد نتکانی
دھم دھما دھم دھم…. دھم دھما دھم دھم ملک ڈتو کے گھر سے رات گئے سے ڈھول کی اواز آنا بند نہیں ہوئی تھی۔ اور
دھم دھما دھم دھم…. دھم دھما دھم دھم ملک ڈتو کے گھر سے رات گئے سے ڈھول کی اواز آنا بند نہیں ہوئی تھی۔ اور
” انوبی میں نے سنا ہے کہ اگلی اتوار اپنی سونو دھی آ رہی ہے، تو نے بس مجھے ہی نہ بتایا، تیرے دکھ سکھ
سلاخوں کے پارسے اٹھتی سوندھی سوندھی گیلی مٹی کی مہک نے اسے ماضی میں گم کردیا ۔ اس کاکچی مٹی سے تعمیرکردہ ایک کمرے اورصحن
17دسمبر 1987 سردیوں کی ایک شام تھی جب ہم اپنے نئے گھر میں شفٹ ہوئے میں اپنے ساتھ اپنی پرانی مدد گار کچھ دنوں کے
ٹھیک پندرہ روز بعد ہم سب دوبارہ کو لکھپت جیل جا رہے تھے ۔ ہمارے ساتھ لیڈی ہیلتھ وزیٹرفرحت ( مرحومہ) غزالہ ہاشمی ، فرزانہ
خلاصہ:نین تارا غیر ملکی مذموم مقاصد کو پورا کرتی ایک این جی او چلا رہی ہے۔وہ پون کو نوکری کی پیشکش کرتی ہےجو کہ صالحہ
ڈاکٹر گلشن حقیق مرزا کی ہمہ پہلو اور متحرک شخصیت کا تذکرہ جو حسنِ عمل کی بہت سی راہیں دکھا رہا ہے بے شک
بلندیوں کا سفر قبالا آذربائجان کا ایک تاریخی شہر ہے جو پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے منگول خان، تیمور لنگ اور ایسے کئی جنگجوؤں
’’پل میں تولہ پل میں ماشہ‘‘ کا محاورہ شاید بنا ہی ان کے لیے ہے۔ جن میاں بیوی کے درمیان محبت اور دوستی زیادہ ہوتی
ادارہ بتول کے تحت شائع ہونے والی تمام تحریریں طبع زاد اور اورجنل ہوتی ہیں۔ ان کو کہیں بھی دوبارہ شائع یا شیئر کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ ساتھ کتاب اور پبلشر/ رسالے کے متعلقہ شمارے اور لکھنے والے کے نام کا حوالہ واضح طور پر موجود ہو۔ حوالے کے بغیر یا کسی اور نام سے نقل کرنے کی صورت میں ادارے کو قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہو گا۔
ادارہ بتول (ٹرسٹ) کے اغراض و مقاصد کتابوں ، کتابچوں اور رسالوں کی شکل میں تعلیمی و ادبی مواد کی طباعت، تدوین اور اشاعت ہیں تاکہ معاشرے میں علم کے ذریعےامن و سلامتی ، بامقصد زندگی کے شعوراورمثبت اقدار کا فروغ ہو
Designed and Developed by Pixelpk