دل پہ گزری ہے جو قیامت – بتول دسمبر ۲۰۲۱
آج پھر جمعرات، جمعہ کی درمیانی شب ہے۔ اماں جانی سے بچھڑے ساڑھے تین مہینے ہو گئے۔ اور مجھے تو ان سے بچھڑے شاید صدیاں
آج پھر جمعرات، جمعہ کی درمیانی شب ہے۔ اماں جانی سے بچھڑے ساڑھے تین مہینے ہو گئے۔ اور مجھے تو ان سے بچھڑے شاید صدیاں
پچھلے ماہ ترکی جانا ہؤا ایک کانفرنس کے سلسلے میں۔ استنبول کے’پل مین ہوٹل‘ میں وقفوں میں استقبالیہ سے متصل اس گیلری کا رخ کرتی
جنگل کاٹ دیے گئے۔ زمین ہموار ہو گئی اور گھروں کی بنیادیں ڈال دی گئیں ۔لیکن جنگل کے باسی حشرات بے گھر ہو گئے ۔
گلابی جاڑے کی آمد آمد تھی ۔ شام کو ہلکی سی ٹھنڈک محسوس ہوتی ، مگر دن میں گرمی کا احساس غالب رہتا ، سبک
عافیہ اگرچہ شکل و صورت کے اعتبار سے غیر معمولی نین نقش یا خدو خال کا کوئی دل رُبا مجسمہ نہ تھی، مگر عقل ،
چناب کنارے ایک بھیڑ تھی۔ موبائلز کے کیمروں سے مسلسل ویڈیوز بنائی جا رہی تھیں،رخ ان کا دریا کے تیز بہاؤ کی طرف تھا،شور کافی

