محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی – بتول جنوری ۲۰۲۳
غالبؔ نے برسوں پہلے اپنے ایک مصرع میں کہا تھا ؎ ’’ لے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور‘‘ لیکن انہیں
غالبؔ نے برسوں پہلے اپنے ایک مصرع میں کہا تھا ؎ ’’ لے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور‘‘ لیکن انہیں
فلسفہ ابھرا ہے روح و جسم کی تقسیم کا پھر بپا ہے معرکہ نمرود و ابراہیم کا روح تن سے گر الگ ہو جائے کیا
ادارہ بتول کے تحت شائع ہونے والی تمام تحریریں طبع زاد اور اورجنل ہوتی ہیں۔ ان کو کہیں بھی دوبارہ شائع یا شیئر کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ ساتھ کتاب اور پبلشر/ رسالے کے متعلقہ شمارے اور لکھنے والے کے نام کا حوالہ واضح طور پر موجود ہو۔ حوالے کے بغیر یا کسی اور نام سے نقل کرنے کی صورت میں ادارے کو قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہو گا۔
ادارہ بتول (ٹرسٹ) کے اغراض و مقاصد کتابوں ، کتابچوں اور رسالوں کی شکل میں تعلیمی و ادبی مواد کی طباعت، تدوین اور اشاعت ہیں تاکہ معاشرے میں علم کے ذریعےامن و سلامتی ، بامقصد زندگی کے شعوراورمثبت اقدار کا فروغ ہو
Designed and Developed by Pixelpk