میری نایاب وکمیاب باجی رافت – بتول مئی ۲۰۲۳
آج صبح اخبار پڑھتے ہوئے میری نظریں ایک تصویر پرجم کر رہ گئیں۔دو ماہرین آثارِ قدیمہ اپنے ہاتھوں میں کچھ ہڈیاں تھامے ہوئے تھے جنہیں
آج صبح اخبار پڑھتے ہوئے میری نظریں ایک تصویر پرجم کر رہ گئیں۔دو ماہرین آثارِ قدیمہ اپنے ہاتھوں میں کچھ ہڈیاں تھامے ہوئے تھے جنہیں
جونہی ذکیہ بیگم کی سانس کی ڈور ٹوٹی، ان کے آس پاس موجود سب افراد نے سکھ کا سانس لیا۔ ان کو ایسا محسوس ہوتاتھا
میرے چچا زاد بھائی کی شادی تھی جو میرا کلاس فیلو بھی رہ چکا تھا اور میرا بہترین دوست بھی تھا۔ میں نے شادی میں
ادارہ بتول کے تحت شائع ہونے والی تمام تحریریں طبع زاد اور اورجنل ہوتی ہیں۔ ان کو کہیں بھی دوبارہ شائع یا شیئر کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ ساتھ کتاب اور پبلشر/ رسالے کے متعلقہ شمارے اور لکھنے والے کے نام کا حوالہ واضح طور پر موجود ہو۔ حوالے کے بغیر یا کسی اور نام سے نقل کرنے کی صورت میں ادارے کو قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہو گا۔
ادارہ بتول (ٹرسٹ) کے اغراض و مقاصد کتابوں ، کتابچوں اور رسالوں کی شکل میں تعلیمی و ادبی مواد کی طباعت، تدوین اور اشاعت ہیں تاکہ معاشرے میں علم کے ذریعےامن و سلامتی ، بامقصد زندگی کے شعوراورمثبت اقدار کا فروغ ہو
Designed and Developed by Pixelpk