پٹھو گرما گرم(نظم) – نور مارچ ۲۰۲۱
پٹھو گرما گرم کھیلیں گے آج ہم تو پٹھو گرما گرم بنیں گی اب دو ٹولیاں کوئی نہیں ہے کم کھیلیں گے آج ہم تو
پٹھو گرما گرم کھیلیں گے آج ہم تو پٹھو گرما گرم بنیں گی اب دو ٹولیاں کوئی نہیں ہے کم کھیلیں گے آج ہم تو
کوئی دارو تو اس مرضِ کہن کا بھی خدارا دو جو خدمت گار کا حق ہے، اسی کو حق وہ سارا دو غلام اب ہے
امیدِ صبحِ بہار رکھنا سدا گلوں پہ نکھار رکھنا بُھلا کے رکھنا خزاں کا موسم بہار یوں ذی وقار رکھنا سہانی رُت ہے اب آنے
ساون آیا، برسی برکھا، رت یہ سہانی آئی ہے ڈالی ڈالی کوکے کوئل، کیا یہ سندیسہ لائی ہے سکھیوں نے ڈالیں پینگیں اور اُڑیں فلک
غزل ہم سفر پھر نئے سفر میں ہیں ہم اسی آرزو کے گھر میں ہیں حالِ دل کی خبر نہ پھیلا دیں وہ جو بے
حمد
کتنا حسیں اس نے انساں بنایا
فرشتوںسے سجدہ بھی اس نے کرایا
یہ اُس کا کرم ہے یہ اُس کا کرم ہے
بھٹکے ہوئوں کو ہے رستہ دکھایا
دوزخ میں گرنے سے ہم کو بچایا
یہ اُس کا کرم ہے یہ اُس کا کرم ہے
رہِ زندگی میں ہدایت عطا کی
محمدؐ کی صورت شفاعت عطا کی
یہ اُس کا کرم ہے یہ اُس کا کرم ہے
فہم دین و دنیا کا اُس نے دیا ہے
عمل کا بھی سامان اُس نے کیا ہے
یہ اُس کا کرم ہے یہ اُس کا کرم ہے
ہوا میں پرندوں کو اُڑنا سکھایا
ترانۂ حمد مل کر ان سب نے گایا
یہ اُس کا کرم ہے یہ اُس کا کرم ہے

