اتوار – نوردسمبر ۲۰۲۰
اتوار کی قدر کوئی ہمارے دل سے پوچھے ۔ یہی وہ دن ہے۔ ؎ دن گنے جاتے تھے جس دن کے لیے یقین کیجیے کہ
اتوار کی قدر کوئی ہمارے دل سے پوچھے ۔ یہی وہ دن ہے۔ ؎ دن گنے جاتے تھے جس دن کے لیے یقین کیجیے کہ
ایک دبلامریض سا شخص تقریر کر کے بیٹھا ہی تھا کہ ایک آدمی بول پڑا ۔ ’’ میں سمجھتا ہوں جو بھائی ابھی بیٹھے ہیں
ایک کسان کے پاس ایک گھوڑا تھا ۔ اُجلی رنگت، مضبوط کاٹھی۔چست و وفا دار ۔ جب تک وہ جوان اور طاقت ور رہا ،
٭ دو گپی ایک دوسرے پر بازی لے جانے کے لیے لمبی لمبی چھوڑ رہے تھے۔ایک نے کہا :’ ’ میرے دادا بازار آلو لینے
دوپہر کا ایک بج رہاتھااور گھر میں ایسا سناٹا چھایا ہوا تھاجیسےیہاں کوئی متنفس نہ رہتاہو۔ جس گھر میں چار لڑاکا بچے ہوں ،ان کی
فہرست آپ کی باجی اللہ کے نام سے ماہر القادری حمد(نظم) ابوالحسن علی ندوی انسانیت ام حبیبہ شکر والی گلی نزہت وسیم روشنی کا سفر

