جیل کہانی – وہ جو قافلے سے بچھڑ گئے – آسیہ راشد
ان کی آہ و بکامیں ان راستوں کی تلاش تھی جوان کے گھروں کوجاتے تھے …. ایک انوکھے تجربے کا احوال یہ ان دنوں کی
ان کی آہ و بکامیں ان راستوں کی تلاش تھی جوان کے گھروں کوجاتے تھے …. ایک انوکھے تجربے کا احوال یہ ان دنوں کی
گیت کیا سناؤں میں ،شادماں نظاروں کا غم زدہ سے موسم میں خوش بیاں نظاروں کا تلخ سی حقیقت میں قہقہوں کے افسانے کھوکھلی سی
ابھی یہ عمر باقی ہے ابھی یہ سانس چلتی ہے ابھی یہ دل دھڑکتا ہے یہ دھڑکن شور کرتی ہے ابھی قوسِ قزح آنکھوں کے
وہ جو ماں کے تلخ سے تند سے مجھے چھٹ پنے میں رلا گئے وہی لہجے ڈانٹ کے پِیٹ کے مری زندگی کو بنا گئے
’’ کارکن اورقیادت سےتحریک کے تقاضے ‘‘ کاایک باب ہر تنظیم کسی مقصد کے لیے قائم ہوتی ہے اور اس مقصد کے حصول میں وہ جتنی
سیرت طیبہ سے رحمت وشفقت کی چند کرنیں اللہ تعالیٰ نے انسان کے اپنے اندر خیر و شر اور نیکی و بدی میں تمیز کرنے

