موبائلی سیاپے – نبیلہ شہزاد
مسکین مائوں کی جرأ ت ہی نہیں ہوتی کہ فون پکڑ کر کسی کو فون کر لیں …پہلے وہ اس لڑاکا مخلوق کے سو جانے
مسکین مائوں کی جرأ ت ہی نہیں ہوتی کہ فون پکڑ کر کسی کو فون کر لیں …پہلے وہ اس لڑاکا مخلوق کے سو جانے
حریک پاکستان کے ایک کارکن کا تذکرہ جس نے سید مودودیؒ کی تحریروں سے دو قومی نظریہ پھیلانے کا کام کیا 1961ء میں ہمارے ملک
باہر نکل کر میںنے بھائی سے رابطہ کیا جو طواف مکمل کر چکے تھے ۔ میں بھائی کا انتظار کرنے کے لیے مطاف ہی میںجائے
ایک وفا دار ملازم کی انوکھی کہانی جو تقسیمِ ہند کے نشیب و فراز سے ہوتی ہوئی کشمیریوں کی جدوجہد ِ آزادی پر ختم ہو
ایک جملہ ہے جس نے پون کو الجھا کر رکھ دیا ہے۔وہ اسے کسی خزانے کی چابی سمجھ رہی ہے مگر اس کی سہیلی خدیجہ
سورج اپنی بانہیں سمیٹنے کو پر تول رہا تھا تمام دن اپنی کرنیں زمین کے باسیوں پر نچھاور کرتے کرتے وہ نڈھال ہو چکا تھا

