سنہرے گنبد سے اپنا رشتہ – اسماء صدیقہ
سنہرے گنبد سے اپنارشتہ تو اس قدر ہے خدا نے رکھی جہاں پہ برکت یہی وہ در ہے گئے تھے آقا فلک کی جانب یہی
سنہرے گنبد سے اپنارشتہ تو اس قدر ہے خدا نے رکھی جہاں پہ برکت یہی وہ در ہے گئے تھے آقا فلک کی جانب یہی
درد کی رفاقت میں بے طرح کی شدت ہے بے کسی کے ہاتھوں میں چیختی ہے تنہائی منتظر زمانوں میں مضطرب فسانوں میں وحشتوں کے

