نعت – بتول نومبر ۲۰۲۲
نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم بلندیِ خیال میں،جواب میں سوال میں وفا کے ہرکمال میں، عمل کے ہرجمال میں عروج میں ،زوال میں
نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم بلندیِ خیال میں،جواب میں سوال میں وفا کے ہرکمال میں، عمل کے ہرجمال میں عروج میں ،زوال میں
برف رتوں کا المیہ گھروں کے آنگن ،دلوں کے دامن ،تمام ڈیرے ہوس کی دہشت نے ہیں بکھیرےکئی بسیرے کہر میں لپٹی ہوئی فضا میں
’’ارے یہ کیا ؟ گرمیوں کے کپڑوں پہ اتنا اہتمام ؟بھئی ہم تو لان کے سوٹ پہ کوئی بیل یا لیس نہیں لگاتے ….خواہ مخواہ
لک تیرے غلام ہیں سر کو- جھکائے ہم در پہ ترے کھڑے ہوئے نظریں اٹھائے ہم مانا کہ زندگی کے ستم بےشمار ہیں اور بندگی
گیت کیا سناؤں میں ،شادماں نظاروں کا غم زدہ سے موسم میں خوش بیاں نظاروں کا تلخ سی حقیقت میں قہقہوں کے افسانے کھوکھلی سی
یہ میرے ہونے کا اک پتہ ہے ہر اک سفر میں ہراک خطر میں جوتھام لیتا ہے بن کے رہبر کبھی یہ دھیرے سے لاج

