انہیں اس آخری خطبے کا وہ پیغام پیار دو – بتول جون ۲۰۲۳
کوئی دارو تو اس مرضِ کہن کا بھی خدارا دو جو خدمت گار کا حق ہے، اسی کو حق وہ سارا دو غلام اب ہے
کوئی دارو تو اس مرضِ کہن کا بھی خدارا دو جو خدمت گار کا حق ہے، اسی کو حق وہ سارا دو غلام اب ہے
امیدِ صبحِ بہار رکھنا سدا گلوں پہ نکھار رکھنا بُھلا کے رکھنا خزاں کا موسم بہار یوں ذی وقار رکھنا سہانی رُت ہے اب آنے
ساون آیا، برسی برکھا، رت یہ سہانی آئی ہے ڈالی ڈالی کوکے کوئل، کیا یہ سندیسہ لائی ہے سکھیوں نے ڈالیں پینگیں اور اُڑیں فلک
گھنگھور گھٹاؤں نے پیغام سنایا ہے ہر دل کو لبھانے کا موسم یہ آیا ہے گونجے ہے جہاں سارا اک شوقِ نوا سے اب مرغانِ
غزل ہم سفر پھر نئے سفر میں ہیں ہم اسی آرزو کے گھر میں ہیں حالِ دل کی خبر نہ پھیلا دیں وہ جو بے

