This Content Is Only For Subscribers
حضرت شاہ عبد الطیف بھٹائی صوبہ سندھ کے ایک بہت بڑے صوفی بزرگ گزرے ہیں جنھوں نے اپنی زندگی کے کئی برس ایک ٹیلے پر عبادت خداوندی میں گزارے جسے بھٹ شاہ کہتے ہیں ۔ اسی لیے آپ ؒ کا نام بھٹائی مشہور ہو گیا ۔ حضرت شاہ صاحب نے سندھی زبان میں معرفت کے بیج بوئے اور اپنی شاعری سے لوگوں کو خدا اور مخلوق سے محبت کا آفاقی پیغام دیا ۔ آپؒکے ایک شعر کا ترجمہ ہے ۔
’’ پڑھو الف اوراس کے بعد سب حروف چھوڑ
کہاں تک ورق پہ ورق اُلٹو گے ؟‘‘
اس کا مطلب یہ ہے کہ الف سے اللہ کا نام پڑھو اور باقی دنیا کو بھول جائو یعنی صرف اللہ کے ہو کر رہو ۔ اس میں یہ حکیمانہ نکتہ بھی ہے کہ در اصل خدا ہی کی معرفت سے علم ملتا ہے اور صرف دنیاوی علم انسان کو کائنات کے رازوں تک نہیں پہنچا سکتا ۔لہٰذا ہم کو خدا کی معرفت حاصل کرنا چاہیے اور اس کی معرفت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم نیک کام کریں اور لالچ چھوڑ دیں یعنی دنیا کی زندگی میں نہ کھو جائیں ۔ ہمارا مقصد تخلیق ہمارے پیش نظر رہنا چاہیے۔
شہلا کرن
٭ ٭ ٭


