This Content Is Only For Subscribers
بھرتے ہیں وہ لمحے میری یادوں میں شرارے
جب راہ میں ہر سمت اندھیروں کے ستوں تھے
اک آگ کے دریا کا سفر تھا ہمیں در پیش
ہم قافلہ درقافلہ اس آگ سے گزرے
جلتے ہوئے شہروں کی فضائوں سے گزر کر
ہم نورِ یقین دل میں بسائے ہوئے آئے
اس آگ سے ہم نے کئی گلزار بنائے
پرچم پہ اتر آیا ہلال اور ستارا
چوکس رہے برجوں میں جمائے ہوئے نظریں
جب بھی کسی دشمن نے ہمیں گھور کے دیکھا
دھرتی پہ ، سمندر میں، ہوائوں میں لڑے ہم
یہ دیس ہے پائندہ سبھی مل کے پکارے
افلاک سے اترے کئی رحمت کے اشارے
پھر آج ہر اک سمت یہ نفرت کا دھواں ہے
آواز دو وہ جذبہِ تعمیر کہاں ہے
وہ نورِ یقیں پھر سے اندھیروں سے نکالو
طوفان ہے طوفان ہے کچھ خود کو سنبھالو
تخریب کے طوفان سے پھر لڑنا ہے ہم کو
تعمیر وطن کے لیے ہر سمت بڑھیں گے
تنظیم کے سورج کی بکھرتی ہوئی کرنیں
ہم اپنے ارادوں میں نگاہوں میں بھریں گے
ہم کل بھی بپھرتی ہوئی ظلمت سے لڑے تھے
ہم آج بھی نفرت کے اندھیروں سے لڑیں گے


