This Content Is Only For Subscribers
ازل سے اپنا تو ایک منظر
ابد بھی ایسا ہی ہو گا منظر
ازل یہی ہے ابدیہی ہے
ہمارا کوئی ازل نہیں ہے
ہمارا کوئی ابد نہیں ہے
سنا ہے صدیوں کی صدیوں پہلے
ہماری صبحیں اسی طرح تھیں
ہماری شامیں اسی طرح تھیں
محل ہمارے مقدروں میں لکھے ہوئے تھے
محل ہمارے مقدروں میں لکھے ہوئے ہیں
ہماری عمریں مگر گزاری ہیں دوسروں نے
ہماری خوشیاں مگر منائی ہیں دوسروں نے
محل سجے ہیں ہمارے ہاتھوں
کچن چلے ہیں ہمارے ہاتھوں
سبھی لباسوں کے داغ مٹتے ہیں اپنے دم سے
سبھی بزرگوں کے عیب چھپتے ہیں اپنے دم سے
ان انگلیوںسے ہی برتنوں کوچمک ملی ہے
ان انگلیوں سے ہی خواہشوں کو کھنک ملی ہے
نہ جانے کتنی بہکتی نظریں ہمارے آنچل سنبھالتے ہیں
نہ جانے کتنی ہی پیش رفتیں ہمارے اعصاب ٹالتے ہیں
ہماری نسلیں تو کتنی صدیوں سے یوں ہی جیتی ہیں
زخم سیتی ہیں، خون پیتی ہیں
نہایت ِکار جب بھی نکلیں برونِ درہم
تو پولی تھین کے فضول تھیلوں کے ساتھ کتنی
خبیث نظریں بھی جسم و جاں سے اتار کر ہم
گلی کے کچرے میں پھینکتی ہیں
ہماری مشکل ترین محنت
ہماری افضل ترین عبادت بھی بس یہی ہے
ہماری آئندہ نسل برتن لباس دھونا
تو سیکھتی ہے ہمارے ہاتھوں
مگر نگاہوں کی میل دھونا تو جان جاتی ہے
خود بخود ہی
ازل سے اپنا تو ایک منظر
ابد بھی ایسا ہی ہے یقیناً
٭٭٭٭


