This Content Is Only For Subscribers
عقیدت یاد رہتی ہے اطاعت بھول جاتے ہیں
نبی کے نام لیوا ہو کے سنت بھول جاتے ہیں
بصد تعظیم جاتے ہیں سبھی آقا کے روضے پر
زیارت یاد رہتی ہے ہدایت بھول جاتے ہیں
رسولؐپاک کی حرمت پہ ہم کٹنے کو راضی ہیں
مگر معمول میں نبوی طریقت بھول جاتے ہیں
بھلا کر سیرتِ احمد رہِ اغیار چنتے ہیں
وہ امت کے لئے آقا کی کلفت بھول جاتے ہیں
کہ دیں کے واسطے وہ ہجرتیں، قربانیاں ساری
جو طائف میں ملی وہ ہر اذیت بھول جاتے ہیں
دلوں میں بغض رکھتے ہیں خصومت پال لیتے ہیں
نبیؐ کی درگزر کی ہم روایت بھول جاتے ہیں
بڑی بے جاں نمازیں ہیں، جبینیں شوق سے خالی
یہی آقا کی آنکھوں کی تھی راحت بھول جاتے ہیں
ہمیں اپنی ستائش کی تمنا یاد رہتی ہے
نبیؐ کی منکسر رہنے کی عادت بھول جاتے ہیں
سنہرا وقت وہ، دورِخلافت یاد رہتا ہے
خلافت کے لیے جو تھی ریاضت بھول جاتے ہیں
وہی ہیں شافعِ محشر وہی کوثر کے والی ہیں
وہ روزِحشر جو ہوگی ندامت بھول جاتے ہیں


