اجنبیت – بتول جنوری ۲۰۲۲
گمنامی کی چادر اوڑھے دکھلاووں کے بیچ کھڑی ہوں اندر کوئی چیخ رہاہے نقلی ہیں سب رنگ و روغن ہر منظر میں سلگا جیون سونا
گمنامی کی چادر اوڑھے دکھلاووں کے بیچ کھڑی ہوں اندر کوئی چیخ رہاہے نقلی ہیں سب رنگ و روغن ہر منظر میں سلگا جیون سونا
بہتات درد کو سہنا مشکل تھا یا بے دردی کو جسم وجاں پہ بیتنے والے دونوں ہی آزار بہت تھے (کچھ تو گھاؤ کے بھر
وبا کے دو گزشتہ برسوں کی یاد میں کچھ احساسات نظم ہوئے) مکالمہ تو خدا سے تھا بس خدا کے عہدِ وفا سے تھا بس
نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم بلندیِ خیال میں،جواب میں سوال میں وفا کے ہرکمال میں، عمل کے ہرجمال میں عروج میں ،زوال میں
برف رتوں کا المیہ گھروں کے آنگن ،دلوں کے دامن ،تمام ڈیرے ہوس کی دہشت نے ہیں بکھیرےکئی بسیرے کہر میں لپٹی ہوئی فضا میں
’’ارے یہ کیا ؟ گرمیوں کے کپڑوں پہ اتنا اہتمام ؟بھئی ہم تو لان کے سوٹ پہ کوئی بیل یا لیس نہیں لگاتے ….خواہ مخواہ

