حمدِ ربِ جلیل – اسما صدیقہ
لک تیرے غلام ہیں سر کو- جھکائے ہم در پہ ترے کھڑے ہوئے نظریں اٹھائے ہم مانا کہ زندگی کے ستم بےشمار ہیں اور بندگی
لک تیرے غلام ہیں سر کو- جھکائے ہم در پہ ترے کھڑے ہوئے نظریں اٹھائے ہم مانا کہ زندگی کے ستم بےشمار ہیں اور بندگی
گیت کیا سناؤں میں ،شادماں نظاروں کا غم زدہ سے موسم میں خوش بیاں نظاروں کا تلخ سی حقیقت میں قہقہوں کے افسانے کھوکھلی سی
سنہرے گنبد سے اپنارشتہ تو اس قدر ہے خدا نے رکھی جہاں پہ برکت یہی وہ در ہے گئے تھے آقا فلک کی جانب یہی
یہ میرے ہونے کا اک پتہ ہے ہر اک سفر میں ہراک خطر میں جوتھام لیتا ہے بن کے رہبر کبھی یہ دھیرے سے لاج
درد کی رفاقت میں بے طرح کی شدت ہے بے کسی کے ہاتھوں میں چیختی ہے تنہائی منتظر زمانوں میں مضطرب فسانوں میں وحشتوں کے
مبارزت ہے لعینِ دوراں! مبارزت ہے (مگر کدھر سے؟) گھرے ہوئے غم زدہ نگر سے نہیں وسیلہ جنھیں میسر نہ کوئی سامانِ جنگ حاصل جو

