آرمی میوزیم کی سیر – نور نومبر ۲۰۲۰
یہ تقریباًدسمبر2017ء کی بات ہے ، جب ہم لوگ کینٹ ایریا میں کسی تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے تھے تو ہمارا گزر علامہ
یہ تقریباًدسمبر2017ء کی بات ہے ، جب ہم لوگ کینٹ ایریا میں کسی تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے تھے تو ہمارا گزر علامہ
پیارے بچو! یہ تو آپ سب جانتے ہی ہیں کہ علامہ اقبال صرف ایک عظیم شاعرہی نہیں بلکہ ہمارے قومی شاعر بھی ہیں۔انھوں نے شاعری
ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا بلبل تھا کوئی اُداس بیٹھا کہتا تھا کہ رات سر پہ آئی اُڑنے چگنے میں دن گزارا پہنچوں کس
فائزہ کی ہنسی نہیں رک رہی تھی۔ اس کی آواز سن کر آمنہ بھی رسالہ چھوڑ کر وہیں چلی آئی اور فائزہ کی نگاہوں کا
ہائے کرونا یہ کرونا، وہ کرونا تنگ آگئے ہم ،ہائے کرونا گھر کے در اب بند ہوگئے ہیں اندر رہ کر تنگ ہوگئے ہیں ابو،
یہ پرچم پاکستان کا ہے یہ سبز ہلالی پرچم ہے اس پر اِک چاند اور تارا ہے ہے عزت اس کی ہر دل میں یہ

