بیت بازی – نور نومبر ۲۰۲۰
بیت بازی اقبال سے اقبال بھی آگاہ نہیں ہے کچھ اس میں تمسخر نہیں واللہ نہیں ہے یقیں محکم ، عمل پیہم، محبت فاتح عالم
بیت بازی اقبال سے اقبال بھی آگاہ نہیں ہے کچھ اس میں تمسخر نہیں واللہ نہیں ہے یقیں محکم ، عمل پیہم، محبت فاتح عالم
حمد اللہ سب کا مالک ہے رازق ہے اور خالق ہے ارض و سما ہیں سارے اُس کے سورج چاند ستارے اُس کے وہی تو
واہ مز ا آگیا شاخ پر جب لگے سبز ڈوڈے تھے یہ سبز چادر لیے ان میں دانے بنے شکل چوکور سی اور کچھ گول
پرچم پرچم اپنا سبز ہلالی رتبہ اس کا سب سے عالی نصرت ، شان اور شوکت والا اس کا پھریرا رفعت والا اُجلی اُجلی اس
جگنو کی مشکل جگنو کی اک دن لڑائی ہوئی پتنگے کی بے حد پٹائی ہوئی جہاں جائوں پیچھے چلا آئے یہ جو بیٹھوں تو بھن
’’ نفس پر چھری پھیریئے ‘‘ میں نے ابھی یہ موضوع ڈا لا ہی تھا کہ سارا نے پڑھ کر سوال داغ دیا – ’’امی

